اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، سابق مصری آمر حسنی مبارک کے نائب عمر سلیمان نے اپنے مختصر اور براہ راست نشر ہونے والے خطاب میں حسنی مبارک کے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اقتدار فوری طور پر مسلح افواج کی مشترکہ کونسل کے حوالے کردیا ہے۔
مظاہرین کے درمیان خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اور انہیں یہ خبر ایسے وقت میں سننے کو ملی جب انھوں نے میدان التحریر میں "جمع بین صلاتین" کے جواز کا ثبوت پیش کرتے ہوئے نماز مغرب و عشاء ساتھ ہی ادا کی تھی۔ لوگ اللہ اکبر کے نعرے لگارہے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے ہیں۔ میدان التحریر میں موجود مظاہرین خوشیاں منا رہے ہیں۔خواتین گھروں کی چھتوں سے خاص عرب رسوم کے مطابق چلا چلا کر خوشی کا اظہار کررہی ہیں۔حزب اقتدار کے ایک راہنما نے کہا کہ حسنی مبارک اپنے خاندان کے ساتھ شرم الشیخ چلے گئے ہیں جبکہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق وہ متحدہ عرب امارات چلے گئے ہیں۔عدل و ترقی جماعت کے نوجوانوں کے شعبے کے لیڈر ولید عبدالرؤف نے کہا کہ پہلا قدم مبارک کا استعفی تھا جو انجام پایا اور دوسرا قدم یہ ہے کہ آمر حسنی مبارک کے تمام ساتھی بھی ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔
قاہرہ میں اسرائیلی سفارتخانہ امن و امان کی موجودہ صورت حال کے بہانے بند کیا گیا ہے۔ ذرائع کی مطابق اسرائیلی حکمران تشویش اور خوف و ہراس کے ساتھ حسنی مبارک کی رخصتی کا تماشا دیکھتے رہے۔
اخوان المسلمین کے مرشد عام کے نشر و اشاعت کے شعبے کے سربراه ولید شلبی نے کہا کہ مبارک کے جانے کے ساتھ ہی مبارک کا نظام حکومت مکمل طور پر چلا گیا ہے اور ہم عمر سلیمان کو تسلیم کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں۔ فوج سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اقتدار پرامن طریقے سے عوام کے سپرد کرے۔ ان تمام افراد پر مقدمہ چلنا چاہئے جنہوں نے مصری انقلاب کے ایام میں لوگوں کا خون بہایا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مصری قوم کو مبارک باد کہتے ہوئے کہا کہ مصری عوام کی خوشی ایرانی عوام کی خوشی ہے اور ہ مصری قوم کی اس عظیم جشن میں شریک ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ملت مصر کا عزم و ارادہ کامیابی پر منتج ہورہا ہے اور یہ ملت ایران اور حکومت ایران کے لئے بہت بڑی خوشی اور مصری عوام کے لئے بہت بڑی خوشی ہے۔
حماس نے کہا کہ مبارک کی برطرفی انقلاب مصر کی کامیابی کا آغاز ہے۔
مصری وزیر دفاع محمد طنطاوی نے وقتی طور پر بر سر اقتدار آنے والی فوجی کونسل کی سربراہی کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔
قطر کے سربراہ شیخ حمدبن خلیفہ آل الثانی نے مبارک کے استعفے کا خیر مقدم کیا۔ شیخ حمد پہلے عرب سربراہ ہیں جنہوں نے حسنی مبارک کے استعفے کا خیر مقدم کیا ہے۔
مغربی دنیا کے لب و لہجے میں تبدیلی؛ امریکی نائب صدر جو بائیڈن، جرمنی کی چانسلر آنجلا مرکل نے مصری انقلاب کی کامیابی کے دن (11 فروری) کو تاریخی دن قرار دیتے ہوئے مصری عوام کو مبارک باد دی ہے۔
حزب اللہ لبنان نے لبنانی عوام کو مبارک باد کا پیغام دیا ہے اور فلسطین کی مجاہد تنظیموں جہاد اسلامی اور حماس نے مصری انقلاب پر یوم تشکر منانے اور عظیم ریلیاں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی سلامتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر سعید جلیلی نے کہا ہے کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ کے روز مصری انقلاب کی کامیابی نے 11 فروری کو عالمی سطح پر امریکی ہزیمت کے دن میں تبدیل کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔
/110
مصری عوام واقعی خوش ہیں: